سٹٹچ بنکن، ایس ای سی پی اسلامک بنکاوری کی ترقی کی پالاںچاں وضع کریں،صدر کے سی سی آئی
سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی
اسلامک بینکاری کی ترقی کی پالیسیاں وضع کریں،صدر کے سی سی آئی
![]() |
سٹٹچ بنکن، ایس ای سی پی اسلامک بنکاوری کی ترقی کی پالاںچاں وضع کریں،صدر کے سی سی آئی
| Stitch Banking, SECP Plan for the Development of Islamic Sanctification, President KCCI
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ
انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے حکومت اور نجی اداروں پر
زور دیا ہے کہ وہ اسلامی فنانس کی ترقی کیلئے محققین،تعلیمی ماہرین، شرعی علماء
اورعمائدین کو جدید نظریات پیش کرنے کے لیے آگے لائیں تاکہ اس اسلامک فنانس
انڈسٹری کو درپیش موجودہ چیلنجز پر قابو پایاجاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں
نے پروفیشنل نیٹ ورک اور آئی بی اے، سی ای آئی ایف کے زیر اہتمام 8ویں سالانہ
اسلامک فنانس ایکسپو اینڈ کانفرنس ( آئی ایف ای سی) کے اختتامی سیشن سے بطور
مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔جنید ماکڈا نے کہاکہ حکومت اور ریگولیٹری باڈیز اسٹیٹ بینک
آف پاکستان اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو ایسی پالیسیاں وضع کرنے
کی ضرورت ہے جو اسلامک بینکاری کی ترقی کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے۔
مزیدبرآں اسکیموں سے
اسلامک بینکاری کی ترقی اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی سے بہتر ماحول مہیا ہو
گا ۔اس کے علاوہ اسکیموں سے اسلامک بینکنگ کے استعمال اور اس کی ترقی میں حصہ لینے
کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اسلامک بینکوں کی صلاحیتوں کو پورا کرنے کے لیے سازگار
ماحول مہیا ہوگا۔انہوں نے اسلامک فنانس ایکسپو کے انعقاد پر منتظمین کو سراہتے
ہوئے کہاکہ یہ امر واقعی خوش آئند ہے کہ بینکوں، اسٹاک ایکسچینج،سیکیورٹیز کمپنیز،
لیزنگ کمپنیز،انشورنس کمپنیز،انویسٹمنٹ کمپنیز،ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز،فنڈ مینجمنٹ
کمپنیز،مالیاتی تعلیمی ادارے اور آئی ٹی فرمز کے مختلف اسٹیک ہولڈرز ایک چھت تلے
جامع بحث اور قیمتی تجاویز دینے کے لیے جمع ہیں جو پوری اسلامک بینکنگ سیکٹر کے حق
میں جائے گا۔
انہوں نے نشاندہی کرتے
ہوئے کہاکہ اسلامک بینکنگ انڈسٹری 22 اسلامک بینکنگ انسٹی ٹیوشنز پر مشتمل ہے۔ 5
مکمل اسلامک بینکوں اور 17روایتی بینکوں نے مارچ 2019 کے اختتام تک علیحدہ اسلامک
برانچز قائم کی ہیں جبکہ اسلامک بینکنگ انڈسٹری میں مجموعی سرمایہ کاری مارچ 2019کے
اختتام تک 19.9فیصد اضافے سی617ارب روپے ہو گئی ہے جو پاکستان میں اسلامک بینکنگ کی
صلاحیتوں کو واضح طور پر ظاہرکرتی ہے۔
اس کے علاوہ اسلامک بینکنگ
انڈسٹری کے اثاثے ایک سہہ ماہی میں 4.9فیصد کی ترقی کے ساتھ جنوری سے مارچ2019کے
دوران 132ارب روپے اضافے سے 2790ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور ڈیپازٹس2199ارب روپے
تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اسلامک بینکنگ مجموعی بینکنگ انڈسٹری کے
اثاثوں میں15فیصد شیئر اور ڈپازٹس میں 15.6فیصد شیئر رکھتا ہے۔جنید ماکڈا نے کہاکہ
پاکستانی عوام میں اسلامک بینکنگ کے تصور کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے جس کی
وجہ آگاہی کی کمی اور پاکستان میں اس کا محدود استعمال ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ
اسلامک بینکنگ کو روایتی بینکوں کی طرح سمجھتے ہیں۔
یہ ایک عام تاثر ہے کہ
سعودی عرب، ملائیشیا، عرب امارات،بنگلہ دیش، ایران ، بحرین اور دیگر خلیجی تعاون
کونسل ( جی سی سی ) ممالک اسلامک بینکنگ کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں تاہم پاکستان
میں اسلامک فنانس میں ترقی کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے کیونکہ یہاں تمام اجزا
موجود ہیں جن میں قانونی، ریگولیٹری ، عدلیہ،ٹیکس اور سیاست شامل ہیں جو پاکستان
کو اسلامک فنانس کا مرکز بنانے کے لیے اور اس کی کامیابی اور استحکام کو یقینی
بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کے سی سی آئی کے صدر نے
امید ظاہر کی کہ پاکستان میں اسلامک فنانس کی ترقی کاعمل جاری ہے اور یہ ملک اگلی
دہائی میں اسلامک فنانس کا مرکز کے طور پر ابھرے گا۔آئی ایف ای سی کے کورآڈینیٹر
اور مالی تجزیہ کار عتیق الرحمان نے اپنے مختصر کلمات میں زور دیتے ہوئے کہاکہ
اسلامک بینکنگ میں تاجروصنعتکار برادری کے لیے فنانس تک رسائی کو آسان بنانا چاہیے
جس کی بدولت پورے ملک میں صنعتوں کو توسیع اور فروغ حاصل ہو گا اور اس کے نتیجے میں
بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی آئے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی
زور دیا کہ اسلامک فنانس انڈسٹری کو اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مختلف
سماجی شعبوں خاص طور پر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹیشن میں سرمایہ کاری ممکن بنانی
چاہیے جس کی حالت قابل رحم اور انتہائی افسوسناک ہے۔یہ انتہائی شرمناک امرہے کہ
مسافروںکو اپنے دفاتر جانے اور گھروں کو واپس جاتے ہوئے ہر روز بہت زیادہ تکالیف
سے گزرنا پڑتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامک فنانس شعبے کے اہم پلیئرز اس
جانب توجہ دیتے ہوئے اس مخصوص شعبے میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے کراچی والوں کو یقیناً
سکھ کا سانس مہیا ہوگا۔
|

No comments