Breaking News

نامور اداکارہ حمائمہ ملک بھی خاوند کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر سامنے آگئںر مجھ پر ہونے والے مظالم آج بھی دن رات مجھے پریشان کرتے ہں ، اب خاموش رہنے پر پچھتا رہی ہوں: حمائمہ ملک

نامور اداکارہ حمائمہ ملک بھی خاوند کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر سامنے آگئیں
مجھ پر ہونے والے مظالم آج بھی دن رات مجھے پریشان کرتے ہیں، اب خاموش رہنے پر پچھتا رہی ہوں: حمائمہ ملک

پاکستانی اداکارہ حمائمہ ملک نے بھی اپنے اوپر ہونے والے گھریلو ظلم سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ حمائمہ ملک انسٹاگرام پر کہا ہے کہ ان پر ہونے والے مظالم آج بھی دن رات انہیں پریشان کرتے ہیں۔ حمائمہ ملک نے اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ 20 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا اپنے اہلخانہ سے بھی ذکر نہیں کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ شادی کے بعد 3 سال تک ظلم برداشت کرنے پر شرمندگی محسوس کر رہی ہیں کہ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکیں لیکن اب وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ اپنے خاموش رہنے پر پچھتا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ معروف اداکارہ حمائمہ ملک کی اداکار اداکار شمعون عباسی سے 2010 میں شادی ہوئی تھی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور 2 سال بعد ہی انکی طلاق ہو گئی تھی۔
حمائمہ ملک پاکستان فلم انڈسٹری کے علاوہ بھارت میں بھی اداکار عمران ہاشمی کے ہمراہ فلم راجہ نٹور لال میں کام کر چکی ہیں۔ اب انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی گھریلو ذلم کا سامنا کرنا پڑ چکا ہیں لیکن وہ اس پر خاموش رہنے ہر پچھتا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر پر ان کی اہلیہ نے الزام لگایا تھا کہ وہ ان پر ظلم کرتے رہے ہیں۔
فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیاویب سائٹ فیس بک پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے اپنے شوہر محسن عباس پر مار پیٹ کرنے اور شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی اور سے افیئر چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ فاطمہ سہیل نے اپنی تحریر کے آغازمیں لکھاہے کہ ’ظلم برداشت کرنا گناہ ہے‘۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کہانی شروع کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں فاطمہ ہوں، محسن عباس حیدر کی اہلیہ اور یہ میری کہانی ہے، 26 نومبر 2018 کو مجھے پتا چلا کے میرا شوہر مجھے دھوکہ دے رہا ہے، جب میں نے جواب مانگا تو بجائے شرمندہ ہونے کے اس نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا، اس وقت میں حاملہ تھی، وہ مجھے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتا رہا، وہ لاتے مارتا، اس نے منہ پر مکے مارنے کے ساتھ دیوار کی جانب دھکا بھی دیا‘۔

No comments